آج کل کی دنیا میں جہاں ہر روز کوئی نہ کوئی نئی ٹیکنالوجی ہمارے سامنے آ رہی ہے، وہاں تھری ڈی پرنٹنگ نے تو جیسے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار اس کے بارے میں سنا تھا، یقین کرنا مشکل تھا کہ کیسے کوئی مشین ایک ڈیجیٹل ڈیزائن کو حقیقی چیز میں بدل سکتی ہے۔ لیکن اب، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ یہ صرف ایک خیال نہیں بلکہ حقیقت بن چکا ہے، جو ہمارے گرد و نواح میں ہر شعبے کو بدل رہا ہے۔ خاص طور پر وہ باصلاحیت افراد جو تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن کہلاتے ہیں، وہ اس ساری تبدیلی کے اصل ہیرو ہیں۔ یہ صرف پرنٹر چلانا نہیں بلکہ مستقبل کی شکل دینے کا کام ہے۔ ان کی مہارت سے میڈیکل (انسانی اعضاء اور ٹشوز کی پرنٹنگ سے لے کر مصنوعی اعضاء کی تیاری تک) سے لے کر تعمیرات (نئے ڈھانچے اور مکانات کی تعمیر) تک، ہر جگہ نئے دروازے کھل رہے ہیں، اور میں نے خود محسوس کیا ہے کہ اس فیلڈ میں کمائی کے بھی بے پناہ مواقع ہیں، چاہے وہ اپنی مصنوعات بیچ کر ہوں یا پرنٹنگ کی خدمات فراہم کر کے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ ٹیکنالوجی ماحولیاتی پائیداری اور ذاتی نوعیت کی ادویات جیسے شعبوں میں بھی حیرت انگیز پیش رفت کا باعث بن رہی ہے۔ تو کیا آپ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ یہ ٹیکنیشن کون ہوتے ہیں، کیا کرتے ہیں، اور اس تیزی سے بڑھتے شعبے میں آپ کیسے اپنا مقام بنا سکتے ہیں؟ آئیے اس بارے میں مزید گہرائی سے جانتے ہیں۔
مستقبل کے ہنرمند: تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشنز کا تعارف

تھری ڈی پرنٹنگ نے ہماری دنیا کو ایک نئی شکل دی ہے، اور اس تبدیلی کے پیچھے جو لوگ دن رات محنت کر رہے ہیں، وہ ہیں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشنز۔ جب میں نے پہلی بار اس شعبے میں قدم رکھا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ صرف ایک مشین چلانا نہیں بلکہ مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔ یہ لوگ ڈیجیٹل ڈیزائنز کو حقیقت میں بدلنے والے جادوگر ہیں۔ ان کی مہارت سے ہر شعبے میں نئے راستے کھل رہے ہیں، چاہے وہ میڈیکل کا میدان ہو جہاں انسانی اعضاء اور ٹشوز کی پرنٹنگ سے لے کر مصنوعی اعضاء کی تیاری تک سب کچھ ممکن ہو رہا ہے، یا پھر تعمیرات کا شعبہ جہاں نئے اور سستے گھروں کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ مجھے یاد ہے جب کسی نے مجھے بتایا کہ ایک دن ہم گھر بیٹھے اپنی ضرورت کی کوئی بھی چیز پرنٹ کر سکیں گے، تو یہ ایک خواب لگتا تھا، مگر آج یہ حقیقت ہے۔ یہ ٹیکنیشنز نہ صرف پیچیدہ ماڈلز کو ڈیزائن کرتے ہیں بلکہ پرنٹنگ کے عمل کی نگرانی بھی کرتے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر چیز بالکل درست ہو۔ یہ صرف ایک نوکری نہیں، بلکہ ایک ایسا سفر ہے جہاں ہر روز کچھ نیا سیکھنے اور تخلیق کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس فیلڈ میں آنے کے بعد، میں نے خود دیکھا ہے کہ کمائی کے بھی بے پناہ مواقع ہیں، چاہے اپنی مصنوعات بنا کر بیچیں یا پھر دوسروں کو پرنٹنگ کی خدمات فراہم کریں۔ یہ سارا عمل ماحولیاتی پائیداری کو بھی فروغ دے رہا ہے اور ذاتی نوعیت کی ادویات کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان ٹیکنیشنز کی بدولت، ہم ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ناممکن کچھ نہیں لگتا۔
تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن کا کردار کیا ہے؟
ایک تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن کا کردار صرف ایک پرنٹر کو آن یا آف کرنے تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس سے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہے۔ یہ ہنرمند افراد سب سے پہلے کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن (CAD) سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی چیز کا تین جہتی ڈیجیٹل ماڈل تیار کرتے ہیں۔ اس کے بعد، وہ اس ماڈل کو پرنٹر کے لیے تیار کرتے ہیں، جس میں مواد کا انتخاب، پرنٹنگ کے پیرامیٹرز سیٹ کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ ڈیزائن بغیر کسی خامی کے پرنٹ ہو۔ مجھے اپنا ایک تجربہ یاد ہے جب میں ایک انتہائی پیچیدہ جیولری پیس پرنٹ کر رہا تھا، اور معمولی سی غلطی پورے ڈیزائن کو خراب کر سکتی تھی۔ ایسے میں ٹیکنیشن کی باریک بینی اور تفصیل پر توجہ ہی اسے کامیاب بناتی ہے۔ وہ پرنٹنگ کے عمل کے دوران مشین کی نگرانی کرتے ہیں، کسی بھی مسئلے کو فوری طور پر حل کرتے ہیں، اور پرنٹ مکمل ہونے کے بعد پروڈکٹ کو فنشنگ دیتے ہیں، جس میں اسے صاف کرنا، پالش کرنا یا پینٹ کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ یہ دراصل ایک تخلیقی اور تکنیکی کام کا حسین امتزاج ہے جہاں آپ اپنے ہاتھوں سے ایک ڈیجیٹل خیال کو ٹھوس شکل دیتے ہیں۔ وہ صرف مینوفیکچرنگ ہی نہیں کرتے، بلکہ مسئلے حل کرنے والے، ڈیزائن کے ماہر اور معیار کو یقینی بنانے والے بھی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، انہیں اکثر پرنٹر کی دیکھ بھال اور مرمت کے بارے میں بھی جانکاری ہونی چاہیے تاکہ مشین ہمیشہ بہترین حالت میں کام کرے۔
ضروری مہارتیں اور تعلیم
اگر آپ اس دلچسپ شعبے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں تو کچھ مہارتیں ایسی ہیں جو آپ کو ایک کامیاب تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن بنا سکتی ہیں۔ سب سے پہلے اور اہم، آپ کو CAD (Computer-Aided Design) سافٹ ویئر میں مہارت حاصل کرنی ہوگی، کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جس سے آپ اپنے خیالات کو ڈیجیٹل ڈیزائن میں بدلتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار CAD سیکھنا شروع کیا تھا، تو یہ بہت مشکل لگا، لیکن مسلسل مشق اور لگن سے میں نے اس پر عبور حاصل کر لیا اور آج میں کسی بھی ڈیزائن کو آسانی سے تخلیق کر سکتا ہوں۔ اس کے علاوہ، آپ کو مختلف پرنٹنگ ٹیکنالوجیز جیسے FDM (Fused Deposition Modeling) اور SLA (Stereolithography) کا گہرا علم ہونا چاہیے، کیونکہ ہر ٹیکنالوجی کے اپنے فوائد اور استعمالات ہیں۔ مواد کی سائنس کی سمجھ بھی بہت ضروری ہے، یہ جاننا کہ کون سا مواد کس پروجیکٹ کے لیے بہترین ہے، چاہے وہ پلاسٹک ہو، دھات، یا بائیو میٹریل۔ تعلیم کے لحاظ سے، بہت سے ٹیکنیشنز ٹیکنیکل ڈپلومہ یا سرٹیفیکیشن کورسز کرتے ہیں، جبکہ کچھ یونیورسٹی کی ڈگریوں کے ساتھ آتے ہیں، خاص طور پر انجینئرنگ یا ڈیزائن کے شعبوں سے۔ مجھے لگتا ہے کہ عملی تجربہ یہاں کلید ہے، جتنا زیادہ آپ پرنٹرز کے ساتھ کام کریں گے، اتنی ہی آپ کی مہارت پختہ ہوتی جائے گی۔ اس فیلڈ میں مسلسل نئی ٹیکنالوجیز آ رہی ہیں، اس لیے سیکھنے کا عمل کبھی نہیں رکتا۔
روزگار کے نئے افق: کمائی اور ترقی کے مواقع
جب ہم تھری ڈی پرنٹنگ کے شعبے میں روزگار کے مواقع کی بات کرتے ہیں تو میرے اندر ایک خاص جوش پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ میں نے خود دیکھا ہے کہ یہ میدان کتنی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ ایک وسیع دنیا ہے جہاں ہر روز نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس شعبے میں ٹیکنیشنز کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، کیونکہ تقریباً ہر صنعت میں تھری ڈی پرنٹنگ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ میڈیکل سے لے کر آٹو موٹیو، ایرو اسپیس سے لے کر کنزیومر گڈز اور یہاں تک کہ فن تعمیر اور فیشن تک، ہر جگہ تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشنز کی ضرورت ہے۔ مجھے اپنا وہ وقت یاد ہے جب میں نے ایک چھوٹی سی کمپنی میں بطور تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن کام شروع کیا تھا، اور مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کتنے متنوع پروجیکٹس پر کام کرنے کا موقع ملا۔ کبھی میں ایک میڈیکل پروٹوٹائپ پر کام کر رہا ہوتا تو کبھی کسی آرکیٹیکچرل ماڈل پر۔ اس میں ایک بات تو طے ہے کہ آپ کبھی بور نہیں ہوتے!
مختلف صنعتوں میں مانگ
تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشنز کی مانگ کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ طبی شعبے میں، جہاں کسٹمائزڈ مصنوعی اعضاء، ڈینٹل ماڈلز اور یہاں تک کہ انسانی بافتوں کی پرنٹنگ کی جاتی ہے، ان کی مہارت ناگزیر ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دوست نے بتایا تھا کہ کیسے اس نے ایک مریض کے لیے ایسا مصنوعی ہاتھ ڈیزائن اور پرنٹ کیا جو روایتی طریقوں سے بہت مہنگا پڑ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر دلی سکون ملا کہ ہماری ٹیکنالوجی کسی کی زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔ تعمیراتی صنعت میں، تھری ڈی پرنٹنگ کا استعمال سستے اور تیز رفتار مکانات بنانے کے لیے ہو رہا ہے، جو کہ ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ایرو اسپیس اور آٹو موٹیو میں، ہلکے پھلکے لیکن مضبوط پرزے بنانے کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ فیشن اور جیولری ڈیزائن میں بھی یہ ٹیکنالوجی اپنی جگہ بنا رہی ہے، جہاں منفرد اور پیچیدہ ڈیزائنز کو حقیقت کا روپ دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، بہت سی کمپنیاں اپنے پروڈکٹس کے پروٹو ٹائپ تیزی سے تیار کرنے کے لیے بھی تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشنز پر انحصار کرتی ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ فیلڈ کتنا متنوع اور مواقع سے بھرپور ہے۔
کمائی اور ترقی کے امکانات
جہاں تک کمائی اور ترقی کے امکانات کا تعلق ہے، تھری ڈی پرنٹنگ کا شعبہ بہت حوصلہ افزا ہے۔ ایک تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن کی تنخواہ اس کی مہارت، تجربے اور جغرافیائی محل وقوع پر منحصر ہوتی ہے۔ پاکستان میں، ایک ابتدائی سطح کا ٹیکنیشن ایک مناسب تنخواہ کی توقع کر سکتا ہے، اور جیسے جیسے تجربہ بڑھتا ہے، یہ تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ صرف تنخواہ پر انحصار نہ کریں، بلکہ تخلیقی راستے بھی تلاش کریں۔ بہت سے ٹیکنیشنز اپنی آزادانہ پرنٹنگ کی خدمات پیش کرکے یا اپنی ڈیزائن کردہ مصنوعات آن لائن فروخت کرکے بہت اچھا پیسہ کما رہے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر ایسے کئی لوگوں کا علم ہے جنہوں نے گھر سے اپنا چھوٹا سا تھری ڈی پرنٹنگ کا کاروبار شروع کیا اور آج وہ کامیابی کی نئی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، آپ پرنٹنگ کی مرمت اور دیکھ بھال کی خدمات بھی پیش کر سکتے ہیں، یا دوسروں کو تھری ڈی پرنٹنگ سکھا سکتے ہیں، جس سے آپ کے علم اور مہارت کو مزید اہمیت ملے گی۔ مستقبل میں، ماہر ٹیکنیشنز ٹیم لیڈرز، پروجیکٹ مینیجرز یا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبے میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں۔ تھری ڈی پرنٹنگ مارکیٹ 2020 میں 12.8 بلین ڈالر تھی اور 2032 تک 88.61 بلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو اس شعبے میں زبردست ترقی کی نشاندہی کرتا ہے۔
تھری ڈی پرنٹنگ میں ذاتی سرمایہ کاری اور کاروبار کے مواقع
مجھے یہ بات بہت پسند ہے کہ تھری ڈی پرنٹنگ کا میدان صرف بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب عام افراد بھی اس میں سرمایہ کاری کر کے اپنا کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب تھری ڈی پرنٹرز بہت مہنگے ہوا کرتے تھے اور عام آدمی کی پہنچ سے باہر تھے، لیکن اب یہ ٹیکنالوجی سستی ہو چکی ہے اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بھی قابل رسائی ہے۔ یہ آپ کے لیے ایک ایسی دنیا کھول دیتا ہے جہاں آپ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اپنی مصنوعات بنا سکتے ہیں بلکہ دوسروں کی مدد کر کے بھی پیسے کما سکتے ہیں۔ میں نے خود ایسے کئی دوستوں کو دیکھا ہے جنہوں نے چھوٹے پیمانے پر شروع کیا اور آج اپنے آن لائن اسٹورز چلا رہے ہیں، جہاں وہ کسٹمائزڈ گفٹس، گیمنگ کے لوازمات یا گھریلو سجاوٹ کی اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ یہ ایک بہترین موقع ہے اپنی آزادی اور مالی خود مختاری حاصل کرنے کا۔
چھوٹے پیمانے پر کاروبار کیسے شروع کریں؟
اپنا تھری ڈی پرنٹنگ کا کاروبار شروع کرنا آپ کے خیال سے کہیں زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے، آپ کو ایک اچھا اور قابل اعتماد تھری ڈی پرنٹر درکار ہوگا، جو آج کل کافی مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ اس کے بعد، آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ کس قسم کی مصنوعات یا خدمات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ کسٹمائزڈ جیولری بنائیں گے؟ یا موبائل فون کے کیسز؟ یا پھر چھوٹے ماڈلز اور پروٹو ٹائپس؟ ایک بار جب آپ اپنی خاصیت کا انتخاب کر لیں، تو آپ آن لائن پلیٹ فارمز جیسے فیس بک مارکیٹ پلیس یا اپنی ویب سائٹ پر اپنی مصنوعات کی تشہیر شروع کر سکتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر شروع میں کچھ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن مسلسل محنت اور اپنے صارفین کی ضروریات کو سمجھنے سے میں نے اپنے کاروبار کو بڑھایا۔ آپ کو اپنے کام میں نفاست اور معیار کو برقرار رکھنا ہوگا تاکہ آپ کے گاہک بار بار آپ کے پاس آئیں۔ سب سے اہم بات، یہ کہ یہ آپ کو گھر بیٹھے پیسہ کمانے کا موقع فراہم کرتا ہے، خاص طور پر خواتین اور ان لوگوں کے لیے جو روایتی ملازمت نہیں کر سکتے۔
خدمات اور مصنوعات کی پیشکش
تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے آپ متعدد خدمات اور مصنوعات پیش کر سکتے ہیں۔ سب سے مقبول طریقہ اپنی پرنٹ شدہ مصنوعات فروخت کرنا ہے، جیسے گیمنگ کے منیچرز، زیورات، گھریلو سجاوٹ کی اشیاء، یا تحائف۔ لوگ ایسی کسٹمائزڈ اور منفرد اشیاء کو بہت پسند کرتے ہیں جو انہیں عام دکانوں پر نہیں ملتیں۔ دوسرا بڑا موقع مقامی پرنٹنگ کی خدمات پیش کرنا ہے، جہاں آپ دوسرے شوقین افراد، طلباء یا چھوٹے کاروباروں کے لیے ان کے ڈیزائن پرنٹ کرتے ہیں۔ میں نے خود کئی بار ایسے لوگوں کی مدد کی ہے جن کے پاس پرنٹر نہیں تھا لیکن وہ ایک مخصوص ڈیزائن پرنٹ کرانا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ، آپ اپنے تھری ڈی پرنٹر کو کرایہ پر بھی دے سکتے ہیں، یا دوسروں کو تھری ڈی پرنٹنگ کی تعلیم اور تربیت فراہم کر سکتے ہیں۔ مرمت اور دیکھ بھال کی خدمات بھی ایک منافع بخش شعبہ ہے، کیونکہ بہت سے لوگوں کو اپنے پرنٹرز کی مرمت یا دیکھ بھال میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان سب طریقوں سے آپ نہ صرف مالی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں بلکہ کمیونٹی میں اپنی مہارتوں کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔
ماحولیاتی اثرات اور پائیداری میں تھری ڈی پرنٹنگ کا کردار
جب ہم کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اس کے ماحولیاتی اثرات پر غور کرنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ تھری ڈی پرنٹنگ صرف ہماری زندگیوں کو آسان نہیں بنا رہی بلکہ پائیداری کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ میں ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ کیا ہم جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ماحول کو بھی بچا سکتے ہیں، اور تھری ڈی پرنٹنگ اس کا ایک بہترین جواب ہے۔ یہ ٹیکنالوجی روایتی مینوفیکچرنگ کے مقابلے میں بہت کم فضلہ پیدا کرتی ہے، جو اسے ہمارے ماحول کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتی ہے۔
فضلہ میں کمی اور توانائی کی بچت
تھری ڈی پرنٹنگ کا سب سے بڑا ماحولیاتی فائدہ یہ ہے کہ یہ “اضافی مینوفیکچرنگ” کے اصول پر کام کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ صرف اتنا ہی مواد استعمال کرتی ہے جتنا کہ پروڈکٹ بنانے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، روایتی مینوفیکچرنگ کے طریقے اکثر مواد کو کاٹ کر یا تراش کر مصنوعات بناتے ہیں، جس سے بہت زیادہ فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار یہ بات سیکھی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ ٹیکنالوجی کتنا بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، تھری ڈی پرنٹنگ اکثر مقامی سطح پر کی جا سکتی ہے، جس سے شپنگ اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور اس سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ میں کمی آتی ہے۔ توانائی کی بچت کے لحاظ سے بھی یہ ٹیکنالوجی کافی موثر ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ اکثر کم توانائی استعمال کرتی ہے اور بڑے پیمانے پر فیکٹریاں چلانے کی ضرورت کو کم کرتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی مزید ترقی کرے گی، ہم ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے مزید مثبت اثرات دیکھیں گے۔
سمندری حیات اور تعمیرات میں اختراعات
تھری ڈی پرنٹنگ کے ماحولیاتی فوائد صرف فضلہ میں کمی تک محدود نہیں ہیں۔ میں نے ایک دلچسپ پروجیکٹ کے بارے میں پڑھا تھا جہاں تھری ڈی پرنٹڈ مرجان کی چٹانیں بنائی جا رہی ہیں تاکہ سمندری حیات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور سمندروں کو بچایا جا سکے۔ یہ ایک حیرت انگیز خیال تھا کہ ایک ٹیکنالوجی جو مشینوں سے جڑی ہے، سمندری ماحولیاتی نظام کی بحالی میں مدد کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، تعمیراتی صنعت میں بھی تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے ایسی عمارتیں بنائی جا رہی ہیں جو زیادہ پائیدار اور ماحول دوست ہیں۔ تصور کریں کہ ایسے گھر بنانا جو تیزی سے تیار ہوں، کم مواد استعمال کریں اور ماحول پر کم بوجھ ڈالیں، یہ ہمارے سیارے کے لیے ایک بہت بڑی جیت ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہمیں نئے اور اختراعی طریقے فراہم کر رہی ہے تاکہ ہم اپنے ماحول کو بہتر بنا سکیں۔
صحت کی دیکھ بھال میں تھری ڈی پرنٹنگ کے انقلابی اثرات

تھری ڈی پرنٹنگ کا شعبہ جب سے صحت کی دیکھ بھال میں داخل ہوا ہے، اس نے تو جیسے ایک نئی دنیا ہی کھول دی ہے۔ مجھے یاد ہے جب میڈیکل کے شعبے میں اس کے استعمال کے بارے میں پہلی بار سنا تھا تو مجھے یقین نہیں آیا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی انسانی جان بچانے اور زندگیوں کو بہتر بنانے میں اتنا بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔ آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ یہ صرف ایک تصور نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مریضوں کے لیے ذاتی نوعیت کے حل فراہم کر کے ایک حقیقی انقلاب برپا کر رہی ہے۔
مصنوعی اعضاء اور بائیو پرنٹنگ میں پیشرفت
میڈیکل کے شعبے میں تھری ڈی پرنٹنگ کی سب سے متاثر کن پیش رفتوں میں سے ایک مصنوعی اعضاء کی تیاری ہے۔ اب ٹیکنیشنز ہر مریض کی مخصوص ضروریات کے مطابق مصنوعی ہاتھ، پاؤں یا دیگر اعضاء پرنٹ کر سکتے ہیں، جو روایتی طریقوں سے تیار کردہ اعضاء سے کہیں زیادہ آرام دہ اور فعال ہوتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بچے کے لیے کسٹمائزڈ مصنوعی ہاتھ تیار کیا گیا تھا جو اس کے سائز اور ضرورت کے مطابق بالکل فٹ تھا، اور یہ دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے کہ اس بچے کی زندگی کتنی بہتر ہو گئی۔ اس کے علاوہ، بائیو پرنٹنگ ایک ایسا شعبہ ہے جو اب بھی اپنی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اس میں بہت بڑا امکان ہے۔ ماہرین زندہ خلیات کو استعمال کر کے انسانی ٹشوز اور اعضاء کو پرنٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تصور کریں کہ ایک دن ہم ایک مکمل فعال دل یا گردہ پرنٹ کر سکیں گے، اس سے اعضاء کی پیوند کاری کا مسئلہ ہی حل ہو جائے گا اور ہزاروں جانیں بچائی جا سکیں گی۔ پاکستان میں ہڈیوں کی پیوند کاری میں تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے کسٹمائزڈ امپلانٹ استعمال کیے جا رہے ہیں جو کہ ایک شاندار کارنامہ ہے۔ یہ پیشرفت نہ صرف طبی خطرات کو کم کرے گی بلکہ مریضوں کی زندگیوں میں بھی ایک مثبت تبدیلی لائے گی۔
ذاتی نوعیت کی ادویات اور سرجیکل ماڈلز
تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے ادویات کی تیاری کا طریقہ بھی ذاتی نوعیت کا بنایا جا رہا ہے۔ اب کمپنیاں ایسی گولیاں اور ادویات بنا سکتی ہیں جو مریض کی مخصوص خوراک اور ضرورت کے مطابق ہوں۔ اس سے نہ صرف دواؤں کی تاثیر بڑھتی ہے بلکہ ضمنی اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایسے لوگوں کے لیے ایک نعمت ہے جو مختلف بیماریوں کی وجہ سے روایتی دواؤں سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ مجھے ایک دوست نے بتایا کہ کیسے ایک فارماسیوٹیکل کمپنی نے تھری ڈی پرنٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے ایک مریض کے لیے خاص طور پر دوا تیار کی، جس کے نتائج حیران کن تھے۔ اس کے علاوہ، سرجن اب تھری ڈی پرنٹڈ ماڈلز کا استعمال کر کے پیچیدہ سرجریوں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ یہ ماڈلز انہیں آپریشن سے پہلے انسانی جسم کے اندرونی ڈھانچے کو سمجھنے اور بہترین حکمت عملی تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے سرجری کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور مریضوں کے لیے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشنز کی مہارت اور لگن کے بغیر ممکن نہیں۔
آنے والا کل: تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا مستقبل
تھری ڈی پرنٹنگ کا مستقبل اتنا روشن اور متنوع ہے کہ سوچ کر ہی مجھے حیرانی ہوتی ہے۔ جب میں اس شعبے میں آیا تھا، اس وقت بھی یہ ٹیکنالوجی اپنی ابتدائی مراحل میں تھی، لیکن آج یہ جس رفتار سے ترقی کر رہی ہے، وہ ناقابل یقین ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے سالوں میں یہ ہماری زندگی کے ہر پہلو کو مزید تبدیل کر دے گی۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ہر چیز کو مزید ذاتی اور موثر بنایا جا سکے گا۔
تیز رفتار پرنٹنگ اور جدید مواد
مستقبل میں تھری ڈی پرنٹنگ کی سب سے بڑی ترقی یہ ہوگی کہ یہ مزید تیز رفتار ہو جائے گی۔ آج جہاں ایک پیچیدہ پروجیکٹ کو پرنٹ کرنے میں گھنٹوں یا دن لگتے ہیں، وہ وقت بہت کم ہو جائے گا۔ میں نے پڑھا ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز ایسی ہیں جو روایتی طریقوں سے 40 سے 50 گنا زیادہ تیزی سے پرنٹ کر سکتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنی ضروریات کی چیزیں اور پروٹو ٹائپس بہت کم وقت میں حاصل کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پرنٹنگ کے لیے استعمال ہونے والے مواد میں بھی بہت زیادہ جدت آئے گی۔ آج جہاں ہم پلاسٹک اور کچھ دھاتوں تک محدود ہیں، وہاں مستقبل میں ہم مزید جدید مرکبات، سمارٹ مواد اور بائیو میٹریلز کو پرنٹ کر سکیں گے۔ مجھے امید ہے کہ ایسے مواد بھی تیار ہوں گے جو خود مرمت کر سکیں یا ماحول کے ساتھ مطابقت رکھیں۔ یہ سب کچھ تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشنز کے لیے مزید نئے دروازے کھولے گا۔
مصنوعی ذہانت (AI) اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کا انضمام
مستقبل میں، تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت (AI) اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کے ساتھ مزید گہرائی سے جڑ جائے گی۔ تصور کریں کہ ایک پرنٹر جو خود اپنے ڈیزائن کو بہتر بنا سکے، یا ایک ایسا سسٹم جو آپ کی ضروریات کو سمجھ کر خود ہی کوئی چیز پرنٹ کرنا شروع کر دے۔ یہ سب AI کے ذریعے ممکن ہو گا۔ IoT کے انضمام سے پرنٹرز آپس میں اور دیگر آلات سے منسلک ہو سکیں گے، جس سے پرنٹنگ کے عمل کو مزید موثر اور خودکار بنایا جا سکے گا۔ میں نے ہمیشہ یہ سوچا تھا کہ مشینیں کس طرح ایک دوسرے سے بات کریں گی، اور اب یہ خواب حقیقت بنتا نظر آ رہا ہے۔ یہ چیزیں نہ صرف مینوفیکچرنگ کے عمل کو آسان بنائیں گی بلکہ ہمیں مزید ذاتی نوعیت کی مصنوعات بنانے کے بھی قابل بنائیں گی، جہاں ہر چیز آپ کی مخصوص پسند اور ضرورت کے مطابق ہوگی۔ اس کے نتیجے میں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشنز کا کردار مزید اہمیت اختیار کر جائے گا، کیونکہ انہیں ان جدید سسٹمز کو سمجھنے اور چلانے کی مہارت حاصل کرنی ہوگی۔
کامیابی کی راہیں: ایک بہترین تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن کیسے بنیں؟
اگر آپ نے اس دلچسپ اور ترقی پذیر شعبے میں اپنا مستقبل بنانے کا فیصلہ کیا ہے تو یقین مانیں یہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔ میں نے اپنے تجربے سے یہ بات سیکھی ہے کہ محض تکنیکی مہارت کافی نہیں ہوتی، بلکہ کچھ اور چیزیں بھی ہیں جو آپ کو ایک عام ٹیکنیشن سے ایک بہترین اور کامیاب تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن بناتی ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے اپنا سفر شروع کیا تھا تو بہت سے سوالات تھے، لیکن وقت کے ساتھ مجھے ان کے جوابات ملتے گئے۔
مسلسل سیکھنے اور تجربے پر زور
تھری ڈی پرنٹنگ کا شعبہ بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ آج جو ٹیکنالوجی جدید ہے، کل وہ پرانی ہو سکتی ہے۔ اس لیے، ایک کامیاب ٹیکنیشن بننے کے لیے مسلسل سیکھنے کا جذبہ رکھنا بہت ضروری ہے۔ نئے سافٹ ویئرز سیکھیں، مختلف پرنٹنگ تکنیکوں کو سمجھیں اور جدید مواد کے بارے میں معلومات حاصل کرتے رہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے فارغ وقت میں آن لائن کورسز اور ورکشاپس میں حصہ لیا تھا، جس سے میری مہارتوں میں بہت اضافہ ہوا۔ صرف کتابی علم کافی نہیں، عملی تجربہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ چھوٹے پروجیکٹس پر کام کریں، مختلف چیلنجز کا سامنا کریں اور اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔ جتنا زیادہ آپ پرنٹرز کے ساتھ براہ راست کام کریں گے، اتنی ہی تیزی سے آپ کی مہارت پختہ ہو گی۔ اس کے علاوہ، اپنے نیٹ ورک کو بڑھائیں، دوسرے ٹیکنیشنز اور ماہرین سے بات چیت کریں اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔
تخلیقی سوچ اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیت
ایک بہترین تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن صرف وہ نہیں ہوتا جو مشینوں کو چلا سکے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو تخلیقی سوچ رکھتا ہو اور کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ڈیزائن میں کوئی مسئلہ آ جاتا ہے، یا پرنٹنگ کے دوران کوئی خرابی ہو جاتی ہے، ایسے میں آپ کی مسئلے حل کرنے کی صلاحیت ہی آپ کو آگے بڑھاتی ہے۔ مجھے کئی بار ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں ایک پرنٹ بار بار فیل ہو رہا تھا، لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور مختلف طریقوں سے تجربات کر کے آخر کار کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ، آپ کو تخلیقی سوچ کو بھی پروان چڑھانا ہوگا۔ نئے اور منفرد ڈیزائنز بنانے کی کوشش کریں، مختلف صنعتی چیلنجز کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ کے حل تلاش کریں۔ یہی وہ چیز ہے جو آپ کو دوسروں سے ممتاز کرے گی اور آپ کو اس شعبے میں ایک مستند مقام دلائے گی۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں آپ اپنی منفرد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر نہ صرف اپنا نام بنا سکتے ہیں بلکہ معاشرے میں بھی مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
| تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن کے اہم ذمہ داریاں | ضروری مہارتیں | صنعتیں جہاں مانگ ہے |
|---|---|---|
| ڈیجیٹل ماڈلز ڈیزائن کرنا (CAD) | CAD/CAM سافٹ ویئر میں مہارت | طبی (میڈیکل) |
| پرنٹنگ کے عمل کی نگرانی کرنا | پرنٹنگ ٹیکنالوجیز (FDM, SLA) کا علم | تعمیرات |
| پروڈکٹس کی فنشنگ اور کوالٹی کنٹرول | مواد کی سائنس کی سمجھ | آٹو موٹیو |
| پرنٹرز کی دیکھ بھال اور مرمت | مسئلے حل کرنے کی صلاحیت | ایرو اسپیس |
| پروٹو ٹائپس اور کسٹمائزڈ اشیاء تیار کرنا | باریک بینی اور تفصیل پر توجہ | فیشن اور جیولری |
اختتامیہ
مجھے امید ہے کہ تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشنز کے اس سفر نے آپ کو بھی اتنا ہی متاثر کیا ہوگا جتنا کہ اس نے مجھے کیا۔ یہ صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ مستقبل کی ایک جھلک ہے جہاں ہماری تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی حد نہیں۔ میں نے ذاتی طور پر دیکھا ہے کہ کیسے یہ شعبہ افراد اور صنعتوں کے لیے نئے دروازے کھول رہا ہے۔ تو اگر آپ بھی اس میدان میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو یقین مانیں، یہ ایک ایسا سفر ہے جہاں ہر روز کچھ نیا سیکھنے اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کا موقع ملتا ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ آپ بھی اس انقلابی تبدیلی کا حصہ بنیں گے اور اپنے ہاتھوں سے مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔
جاننے کے لیے مفید معلومات
1. تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشنز کے لیے CAD سافٹ ویئر میں مہارت حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ آپ کے ڈیزائنز کو حقیقت میں بدلنے کا پہلا قدم ہے۔
2. مختلف پرنٹنگ ٹیکنالوجیز (FDM, SLA) اور مواد کی خصوصیات کو سمجھنا آپ کو ہر پروجیکٹ کے لیے بہترین حل منتخب کرنے میں مدد دے گا۔
3. چھوٹے پیمانے پر اپنا کاروبار شروع کرنا آسان ہے، اور آپ کسٹمائزڈ مصنوعات یا مقامی پرنٹنگ خدمات فراہم کر کے اچھی کمائی کر سکتے ہیں۔
4. تھری ڈی پرنٹنگ روایتی مینوفیکچرنگ کے مقابلے میں فضلہ کم کرتی ہے اور ماحول دوست پائیداری کو فروغ دیتی ہے۔
5. میڈیکل کے شعبے میں مصنوعی اعضاء کی تیاری اور ذاتی نوعیت کی ادویات میں اس ٹیکنالوجی کا مستقبل بہت روشن ہے۔
اہم نکات کا خلاصہ
ہم نے دیکھا کہ تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشنز کس طرح مستقبل کو تشکیل دے رہے ہیں، ان کی مہارتیں کیا ہیں، اور اس شعبے میں روزگار اور کاروبار کے کتنے روشن امکانات ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف معاشی ترقی کا باعث بن رہی ہے بلکہ ماحولیاتی پائیداری اور صحت کے شعبے میں بھی انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے۔ یاد رکھیں، اس میدان میں کامیابی کے لیے مسلسل سیکھنا، عملی تجربہ اور تخلیقی سوچ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ واقعی ایک شاندار دور ہے جہاں آپ ایک ڈیجیٹل خیال کو حقیقی دنیا میں لا سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: ایک تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن کا اصل کام کیا ہوتا ہے اور وہ روزمرہ کی بنیاد پر کیا کرتے ہیں؟
ج: دیکھو، جب ہم تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن کی بات کرتے ہیں تو بہت سے لوگ صرف پرنٹر چلانے کے بارے میں سوچتے ہیں، لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ ایک ٹیکنیشن کا کام صرف بٹن دبانا نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک تخلیقی اور ذمہ دارانہ کردار ہوتا ہے۔ وہ سب سے پہلے تو ڈیجیٹل ڈیزائن فائلز، جیسے CAD ماڈلز کو جانچتے ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ پرنٹنگ کے لیے بالکل درست ہیں۔ پھر وہ صحیح مواد کا انتخاب کرتے ہیں، چاہے وہ پلاسٹک ہو، رال ہو، دھات ہو یا کوئی اور خاص مادہ، کیونکہ ہر چیز کے لیے الگ پرنٹنگ پیرامیٹرز ہوتے ہیں۔ اس کے بعد وہ پرنٹر کو سیٹ اپ کرتے ہیں، اسے کیلیبریٹ کرتے ہیں اور پرنٹنگ کے عمل کی نگرانی کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک بار ایک مشکل ڈیزائن پر کام کرتے ہوئے، میں نے دیکھا کہ ٹیکنیشن نے کیسے ہر پرت کو اتنی باریکی سے مانیٹر کیا تاکہ کوئی خرابی نہ ہو۔ پرنٹنگ مکمل ہونے کے بعد، وہ چیز کی پوسٹ پروسیسنگ بھی کرتے ہیں، یعنی اسے صاف کرنا، سہارا دینے والے ڈھانچوں کو ہٹانا، اور اگر ضروری ہو تو اس کی فنشنگ کرنا۔ یہ سب کام نہ صرف مہارت مانگتے ہیں بلکہ مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے کیونکہ مشین میں کوئی بھی گڑبڑ ہو سکتی ہے اور پھر اسے ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک ایسا کام ہے جہاں آپ کو ہر روز کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے!
س: اگر کوئی تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن بننا چاہے تو اسے کن مہارتوں اور تعلیم کی ضرورت ہوگی، اور کیا یہ پاکستان جیسے ممالک میں کیریئر کے لیے ایک اچھا انتخاب ہے؟
ج: بالکل، یہ ایک بہترین سوال ہے! مجھے لگتا ہے کہ آج کے دور میں جہاں نوکریوں کے مواقع تیزی سے بدل رہے ہیں، تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن بننا ایک بہت ہی شاندار اور پرکشش انتخاب ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اس شعبے میں آنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے تو آپ کو ٹیک، انجینئرنگ یا آرٹ سے متعلق کسی شعبے میں بنیادی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ بہت سے لوگ ڈپلومہ یا سرٹیفیکیشن کورسز کرتے ہیں جو خاص طور پر تھری ڈی پرنٹنگ پر مرکوز ہوتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ان کورسز میں CAD سافٹ ویئر جیسے SolidWorks یا Fusion 360 پر کام کرنا سکھایا جاتا ہے، جو کہ بہت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مواد کی سائنس کی تھوڑی سمجھ ہونا اور مشینوں کے ساتھ کام کرنے کی تکنیکی مہارت بھی بہت کام آتی ہے۔
پاکستان کے تناظر میں، میں یہ پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہے۔ ہمارے ملک میں میڈیکل، تعمیرات اور مینوفیکچرنگ میں جدت آ رہی ہے، اور تھری ڈی پرنٹنگ اس جدت کی کنجی ہے۔ مقامی کاروباری حضرات اور سٹارٹ اپس اس ٹیکنالوجی کو اپنا رہے ہیں، جو نئے نوکری کے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ آپ اپنی خدمات فری لانس بھی دے سکتے ہیں یا اپنی مصنوعات بنا کر بیچ سکتے ہیں۔ ایک دوست نے بتایا کہ اس نے ایک چھوٹے سے پرنٹر سے شروع کیا اور اب وہ کسٹم پرنٹس بنا کر ماہانہ ایک اچھی خاصی رقم کما رہا ہے۔ تو ہاں، یہ نہ صرف ایک اچھا کیریئر ہے بلکہ اس میں خود روزگاری کے مواقع بھی بے پناہ ہیں۔
س: تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن کے لیے مستقبل کی کیا راہیں ہیں اور کمائی کے کیا امکانات ہیں؟ کیا یہ میدان مستقبل میں مزید ترقی کرے گا؟
ج: آپ نے بالکل صحیح سوال کیا! میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ تھری ڈی پرنٹنگ کا میدان کس تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اور یقین جانیں، اس میں مستقبل کی راہیں بہت روشن ہیں۔ یہ صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک پوری صنعت ہے جو ہر روز نئی جہتیں اپنا رہی ہے۔ ٹیکنیشنز کے لیے اب نہ صرف مینوفیکچرنگ اور میڈیکل میں مواقع ہیں، بلکہ آٹو موٹیو، ایئر اسپیس، فیشن ڈیزائن اور حتیٰ کہ خوراک کی صنعت میں بھی نئے دروازے کھل رہے ہیں۔
کمائی کے حوالے سے، یہ واقعی بہت فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ شروع میں شاید تھوڑی تگ و دو کرنی پڑے، لیکن ایک بار جب آپ مہارت حاصل کر لیتے ہیں اور اپنا نام بنا لیتے ہیں، تو اس میں بہت اچھا پوٹینشل ہے۔ میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو اپنی سروسز دے کر اچھا کما رہے ہیں، کوئی کسٹم جیولری بنا رہا ہے تو کوئی صنعتی پرزے ڈیزائن کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ذاتی نوعیت کی مصنوعات بنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس سے ٹیکنیشنز کو اپنی مصنوعات بیچ کر بھی خوب کمانے کا موقع ملتا ہے۔ میرے خیال میں، جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی سستی اور قابل رسائی ہوتی جائے گی، اس شعبے میں ماہر افراد کی مانگ اور بڑھے گی۔ تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنیشن کا شعبہ مستقبل میں مزید عروج پر جائے گا اور کمائی کے نئے راستے کھولتا رہے گا۔






